اندازہ لگائیں، ہمارے اردگرد فضلہ کا انتظام اور کاربن غیر جانبداری کے بارے میں آج کل ہر کوئی بات کر رہا ہے۔ یہ صرف بڑے بڑے سیمینارز یا خبروں کی سرخیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ میں خود جب بھی باہر نکلتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کیسے پلاسٹک کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور پھر اس کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر بھی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ فضلہ کو صرف کوڑا کرکٹ سمجھ کر پھینک دینا ہی حل نہیں بلکہ اسے دوبارہ استعمال میں لانے، توانائی پیدا کرنے اور یہاں تک کہ ماحول دوست مصنوعات بنانے کے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں؟۔ عالمی سطح پر بھی کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور صاف توانائی کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور آلودگی سے پاک دنیا چھوڑی جا سکے۔ یہ سب کچھ سن کر میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو ان سب تازہ ترین رجحانات اور ان سے جڑے مفید مشوروں کے بارے میں بتاؤں جو آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ نیچے دیے گئے اس مضمون میں ہم فضلہ کے انتظام اور کاربن غیر جانبداری کی پالیسیوں کے بارے میں مزید تفصیل سے بات کریں گے تاکہ آپ بھی اس اہم عالمی مہم کا حصہ بن سکیں۔
میرے گھر سے شروع ہونے والی تبدیلی: فضلہ کا جادوئی انتظام

اندازہ لگائیں، آج کل میں جب بھی بازار جاتا ہوں، پلاسٹک کی تھیلیاں اور استعمال شدہ بوتلوں کا ڈھیر دیکھ کر میرا دل دکھتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری دادی اماں گھر میں ہر چیز کو دوبارہ استعمال کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈ ہی لیتی تھیں۔ ان کے پاس کبھی کوئی چیز بے کار نہیں ہوتی تھی۔ آج ہم نے اپنی سہولت کے لیے ہر چیز کو ‘ایک بار استعمال کرو اور پھینک دو’ کی عادت بنا لی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے شہروں میں کوڑے کے پہاڑ بنتے جا رہے ہیں۔ میں نے خود حال ہی میں اپنے گھر سے ہی ایک چھوٹی سی تبدیلی شروع کی ہے – کچرے کو الگ الگ کرنا۔ پہلے تو مجھے بہت مشکل لگا، لیکن اب یہ میری عادت بن چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہر فرد اپنے گھر سے شروعات کرے تو ہم فضلہ کے انتظام کے ایک بہت بڑے مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔ یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں، یہ ہماری زمین اور ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ گھر کا فضلہ کتنا کارآمد ہو سکتا ہے اگر اسے صحیح طریقے سے سنبھالا جائے۔ میں نے اپنے کچن سے نکلنے والے نامیاتی فضلہ سے کھاد بنانا شروع کر دی ہے، جس سے میرے گھر کے پودے پہلے سے زیادہ ہرے بھرے ہو گئے ہیں۔ یہ چھوٹی سی کوشش مجھے ایک عجیب سی خوشی دیتی ہے، جیسے میں نے واقعی کچھ اچھا کیا ہو۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کے بجٹ پر بھی بوجھ نہیں ڈالتا بلکہ اسے کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کے بچے اور پوتے بھی ایک صاف ستھرے ماحول میں سانس لیں؟ یہ سب ہم پر منحصر ہے۔ ہم اپنے گھروں سے شروع ہونے والی تبدیلیوں کے ذریعے معاشرے میں ایک بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
گھریلو فضلہ کی اقسام اور ان کا درست انتظام
جب ہم فضلہ کے انتظام کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فضلہ کتنی اقسام کا ہوتا ہے تاکہ ہم اسے صحیح طریقے سے سنبھال سکیں۔ میں نے اپنے گھر میں چار قسم کے ڈبے رکھے ہیں: ایک نامیاتی فضلہ کے لیے (جیسے سبزیوں کے چھلکے، کھانے کے بچے ہوئے ٹکڑے)، ایک پلاسٹک کے لیے، ایک کاغذ اور گتے کے لیے، اور ایک شیشے کی بوتلوں کے لیے۔ مجھے پتا ہے کہ یہ شروع میں تھوڑا مشکل لگ سکتا ہے، لیکن ایک بار جب آپ کو عادت ہو جائے تو یہ اتنا آسان ہو جاتا ہے کہ آپ کو خود بھی حیرت ہو گی۔ میں نے اپنے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ نامیاتی فضلہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اگر اسے الگ کر لیا جائے تو باقی فضلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ نامیاتی فضلہ کو کھاد بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پلاسٹک، کاغذ اور شیشے کو ری سائیکلنگ کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ ہمارے شہروں میں ری سائیکلنگ کے مراکز اب اتنے زیادہ دستیاب نہیں ہیں جتنے ہونے چاہیئں، لیکن کچھ نجی ادارے اور این جی اوز اس پر کام کر رہے ہیں۔ میں نے ایک مقامی ری سائیکلنگ سنٹر سے رابطہ کیا ہے اور وہ میرے گھر سے پلاسٹک اور کاغذ کا فضلہ اٹھانے آتے ہیں۔ یہ سروس آپ کو بھی اپنے علاقے میں مل سکتی ہے۔ اگر نہیں تو، کم از کم گھر میں الگ کرنے کی کوشش ضرور کریں۔
فضلہ کم کرنے کے عملی طریقے اور تجاویز
فضلہ کو صحیح طریقے سے سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اسے کم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی ہیں جن سے فضلہ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سب سے پہلے، میں نے پلاسٹک کی بوتلوں اور تھیلیوں کا استعمال کم کر دیا ہے۔ اب میں بازار جاتے ہوئے ہمیشہ اپنا کپڑے کا تھیلا ساتھ رکھتا ہوں اور پانی کے لیے دوبارہ بھرنے والی بوتل استعمال کرتا ہوں۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں بہت بڑا فرق ڈال سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، میں خریداری کرتے وقت ایسی چیزیں لینے کی کوشش کرتا ہوں جن کی پیکنگ کم سے کم ہو یا ری سائیکل ہو سکے۔ کھانے کی اشیاء کا ضیاع روکنے کے لیے میں ہمیشہ اتنی ہی خریداری کرتا ہوں جتنی ضرورت ہو اور کھانے کو فریج میں صحیح طریقے سے محفوظ رکھتا ہوں۔ بچے ہوئے کھانے کو میں اکثر اگلے دن استعمال کرنے کی کوئی ترکیب ڈھونڈ لیتا ہوں۔ میرے خیال میں یہ صرف ‘فضلہ کم کرو’ کا نعرہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ذمہ دارانہ طرز زندگی ہے جو ہمیں اور ہمارے ماحول کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ آپ کو بھی یہ تجربہ کرنا چاہیے، آپ خود دیکھیں گے کہ کیسے آپ کا کچرا کم ہوتا جا رہا ہے۔
کاربن کا بوجھ کم کریں: چھوٹے اقدامات، بڑے اثرات
مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا تو ہر طرف درخت اور سبزہ نظر آتا تھا، ہوا اتنی صاف تھی کہ سانس لینا ایک نعمت لگتا تھا۔ اب حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ دھوپ میں نکلنے سے بھی پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں جلد کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ یہ سب کاربن کے بڑھتے ہوئے اخراج کی وجہ سے ہو رہا ہے جو ہماری فضا کو مسلسل آلودہ کر رہا ہے۔ مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اب لوگ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور کاربن غیر جانبداری (Carbon Neutrality) کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جہاں ہم ماحول میں جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، اتنی ہی واپس جذب کرنے یا اس کے اخراج کو کم کرنے کے طریقے اپناتے ہیں۔ میں خود اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کرتا ہوں جن سے میرا کاربن فٹ پرنٹ (Carbon Footprint) کم ہو۔ مثلاً، میں نے حال ہی میں ایک بائیک خرید لی ہے اور مختصر فاصلے کے لیے گاڑی استعمال کرنے کی بجائے بائیک پر جاتا ہوں۔ یہ نہ صرف صحت کے لیے اچھا ہے بلکہ ایندھن کی بچت بھی ہوتی ہے اور ماحولیات کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ مجھے پتا ہے کہ بڑے کارخانے اور گاڑیاں بہت زیادہ کاربن خارج کرتی ہیں، لیکن اگر ہم سب اپنی انفرادی سطح پر کوشش کریں تو ہم ایک بہت بڑا اجتماعی اثر پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم سب اس میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔
گھریلو توانائی کی بچت کے ذریعے کاربن اخراج میں کمی
آپ کو پتا ہے کہ بجلی اور گیس کا استعمال ہمارے گھروں میں کاربن کے اخراج کی ایک بڑی وجہ ہے۔ میں نے اپنے گھر میں توانائی کی بچت کے لیے کچھ آسان طریقے اپنائے ہیں جن سے مجھے حیرت انگیز نتائج ملے ہیں۔ سب سے پہلے، میں نے اپنے تمام پرانے بلب کو ایل ای ڈی (LED) بلب سے بدل دیا ہے۔ یہ کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور زیادہ روشنی دیتے ہیں۔ دوسرا، جب کوئی کمرہ خالی ہو تو میں فوراً پنکھے اور لائٹس بند کر دیتا ہوں۔ یہ ایک بہت چھوٹی سی بات لگتی ہے لیکن جب آپ اسے عادت بنا لیں تو اس کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔ میں نے اپنے اے سی کا استعمال بھی کم کر دیا ہے اور اس کی جگہ زیادہ تر پنکھا استعمال کرتا ہوں۔ اگر اے سی استعمال کرنا بھی ہو تو اسے ایک معتدل درجہ حرارت پر سیٹ کرتا ہوں تاکہ زیادہ بجلی ضائع نہ ہو۔ سردیوں میں، میں ہیٹر استعمال کرنے کی بجائے گرم کپڑوں کو ترجیح دیتا ہوں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف میرا بجلی کا بل کم ہوا ہے بلکہ مجھے ذہنی سکون بھی ملتا ہے کہ میں ماحول کے لیے کچھ اچھا کر رہا ہوں۔
سبز نقل و حمل اور اس کا کردار
نقل و حمل ہمارے کاربن فٹ پرنٹ کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ہماری گاڑیاں پیٹرول اور ڈیزل جلا کر کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہیں جو فضا کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ مجھے یاد ہے جب مجھے پہلی بار بائیک چلانا سیکھنے کا موقع ملا تو میں کتنا پرجوش تھا۔ اب بھی جب میں بائیک پر سفر کرتا ہوں تو ایک عجیب سی آزادی محسوس ہوتی ہے۔ میں زیادہ تر پیدل چلنے یا بائیک کا استعمال کرنے کو ترجیح دیتا ہوں، خاص طور پر جب مجھے قریبی مارکیٹ یا دوستوں کے گھر جانا ہو۔ اگر مجھے گاڑی استعمال کرنی بھی پڑے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ کار پولنگ کروں تاکہ سڑکوں پر کم گاڑیاں چلیں۔ یہ ایک اچھا طریقہ ہے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کا۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں عوامی ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں تو بھی بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں الیکٹرک گاڑیاں عام ہو جائیں گی، جو ماحول دوست ہوں گی، لیکن تب تک ہمیں اپنی موجودہ عادات میں تبدیلی لانی ہو گی۔
کباڑ خانے سے خزانہ: ری سائیکلنگ کے نئے طریقے
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی پھینکی ہوئی بوتل یا اخبار دوبارہ استعمال ہو کر ایک نئی چیز بن سکتا ہے؟ میں نے جب سے ری سائیکلنگ کے بارے میں گہرائی سے جاننا شروع کیا ہے، مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں کباڑ خانے سے خزانہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ہمارے محلے میں ایک شخص آتا تھا جو پرانے اخبارات اور خالی بوتلیں لے کر جاتا تھا۔ تب ہمیں یہ سب ایک عام سی بات لگتی تھی، لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک چھوٹے پیمانے پر ری سائیکلنگ کا بہت اہم کام کر رہا تھا۔ آج کل ری سائیکلنگ صرف کاغذ اور پلاسٹک تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے نئے اور جدید طریقے سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ کمپنیاں تو پرانے کپڑوں کو دوبارہ پروسیس کر کے نئے فیشن ایبل کپڑے بنا رہی ہیں، اور کچھ ایسی بھی ہیں جو استعمال شدہ ٹائروں سے سڑکیں تعمیر کر رہی ہیں۔ یہ سب سن کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہماری ایجادات کس قدر ماحول دوست ہوتی جا رہی ہیں۔ میں نے خود بھی اپنے گھر میں پرانی چیزوں کو نیا روپ دینے کی کوشش کی ہے۔ جیسے کہ پرانی شیشے کی بوتلوں کو پینٹ کر کے پھولدان بنا دیا، یا پرانے لکڑی کے کریٹس سے کتابوں کی شیلف بنا لی۔ یہ ایک بہت ہی تخلیقی عمل ہے اور آپ کو بھی یہ تجربہ ضرور کرنا چاہیے۔
پلاسٹک اور کاغذ کی ری سائیکلنگ: ایک نئی دنیا
پلاسٹک کا مسئلہ آج کل بہت زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دریاؤں اور نالیوں میں پلاسٹک کا ڈھیر دیکھا ہے۔ یہ صرف بدصورتی کا باعث نہیں بلکہ آبی حیات کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔ میں نے حال ہی میں ایک دستاویزی فلم دیکھی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کیسے سمندر میں پلاسٹک کے چھوٹے ٹکڑے مچھلیوں کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میرا دل دہل گیا۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے جدید طریقے اب عام ہو رہے ہیں۔ اب مختلف قسم کے پلاسٹک کو الگ الگ پروسیس کر کے نئی چیزیں بنائی جا رہی ہیں۔ اسی طرح کاغذ کی ری سائیکلنگ بھی بہت اہم ہے۔ ایک ٹن کاغذ ری سائیکل کرنے سے تقریباً 17 درخت بچائے جا سکتے ہیں۔ میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ اپنے گھر کے تمام کاغذی فضلہ کو الگ رکھوں اور اسے ری سائیکلنگ کے لیے دوں۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جو ہم سب کو نبھانی چاہیے۔
الیکٹرانک فضلہ (ای-ویسٹ) کا انتظام: ایک ابھرتا ہوا چیلنج
آج کل ہر گھر میں موبائل فون، کمپیوٹر، اور دیگر الیکٹرانک آلات کی بھرمار ہے۔ جب یہ آلات خراب ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں کوڑے میں پھینک دیتے ہیں، جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ مجھے پتا ہے کہ یہ کتنے مشکل فیصلے ہوتے ہیں، جب آپ کا پرانا فون اب استعمال کے قابل نہیں رہتا تو آپ اسے پھینکنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں دیکھتے۔ میں نے خود ایک بار اپنا پرانا لیپ ٹاپ پھینک دیا تھا اور بعد میں پچھتایا جب مجھے پتا چلا کہ اس میں بہت سے زہریلے کیمیکلز ہوتے ہیں جو زمین اور پانی کو آلودہ کر سکتے ہیں۔ الیکٹرانک فضلہ، جسے ای-ویسٹ (e-waste) بھی کہتے ہیں، آج کل دنیا بھر میں ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ خوش قسمتی سے، اب کچھ کمپنیاں اور تنظیمیں ای-ویسٹ کی ری سائیکلنگ کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ یہ آلات کو صحیح طریقے سے ختم کرتی ہیں اور ان میں موجود قیمتی دھاتوں کو دوبارہ استعمال کرتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے پرانے الیکٹرانک آلات کو پھینکنے سے پہلے ہمیشہ ان اداروں کے بارے میں معلوم کرنا چاہیے جو انہیں ری سائیکل کرتے ہیں۔
سبز توانائی کا سفر: روشن مستقبل کی طرف قدم
ہم سب یہ جانتے ہیں کہ بجلی اور گیس ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں تھی تو شام ہوتے ہی ہر طرف اندھیرا چھا جاتا تھا اور پڑھائی کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اب ہم بجلی کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ بجلی کیسے بنتی ہے اور اس کا ہمارے ماحول پر کیا اثر پڑتا ہے؟ زیادہ تر بجلی اب بھی کوئلے، تیل اور گیس جیسے جیواشم ایندھن (Fossil Fuels) سے بنتی ہے، جو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر کے ہماری فضا کو آلودہ کرتے ہیں۔ اسی لیے سبز توانائی (Green Energy) آج کل بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ وہ توانائی ہے جو قدرتی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے اور ماحول کو نقصان نہیں پہنچاتی، جیسے شمسی توانائی (Solar Energy)، ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی (Wind Energy) اور آبی توانائی (Hydro Energy)۔ میں نے حال ہی میں ایک شمسی توانائی سے چلنے والا چھوٹا سا پاور بینک خریدا ہے اور اس سے اپنا موبائل فون چارج کرتا ہوں۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ کیسے سورج کی روشنی میرے کام آ رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سبز توانائی ہی ہمارے مستقبل کی توانائی ہے۔
| توانائی کا ذریعہ | ماحولیاتی اثرات | پاکستان میں دستیابی |
|---|---|---|
| شمسی توانائی | بہت کم کاربن اخراج، صاف ستھری | بہت زیادہ دھوپ کی وجہ سے وسیع پیمانے پر دستیاب |
| ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی | کم کاربن اخراج، قابل تجدید | کچھ ساحلی اور پہاڑی علاقوں میں دستیاب |
| آبی توانائی | بہت کم کاربن اخراج، پانی کی بہاؤ پر منحصر | دریاؤں اور ڈیموں پر مبنی محدود دستیاب |
| جیواشم ایندھن (کوئلہ، تیل، گیس) | زیادہ کاربن اخراج، فضائی آلودگی | ابھی بھی بنیادی ذریعہ، لیکن کمی کی کوششیں جاری |
شمسی توانائی: آپ کے گھر کے لیے ایک روشن حل
جب بھی میں دھوپ میں کھڑا ہوتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ سورج کی توانائی کتنی لا محدود ہے۔ مجھے پتا ہے کہ ہمارے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے میں شمسی توانائی ایک بہترین حل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں کو دیکھا ہے جنہوں نے اپنے گھروں پر شمسی پینل لگوائے ہیں اور اب وہ بجلی کے بل کی فکر سے آزاد ہو گئے ہیں۔ یہ ایک بڑی سرمایہ کاری ضرور ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے بہت زیادہ فوائد ہیں۔ نہ صرف آپ کے بجلی کے بل کم ہوتے ہیں بلکہ آپ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر بھی شمسی توانائی کو استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے شمسی لیمپ، شمسی چارجر اور شمسی واٹر ہیٹر۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے گھروں میں کم از کم ایک شمسی آلہ ضرور استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہم اس توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنے ماحول کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔
ہوا اور آبی توانائی: قدرت کے انمول تحفے

ہوا اور پانی دونوں قدرت کے انمول تحفے ہیں جن سے ہم صاف توانائی حاصل کر سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں بچپن میں پہاڑی علاقوں میں جاتا تھا تو تیز ہواؤں کو دیکھ کر سوچتا تھا کہ یہ کتنی طاقتور ہوتی ہیں۔ اب ان ہواؤں سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ ہمارے ملک کے کچھ علاقوں میں ونڈ ٹربائنز (Wind Turbines) لگائے گئے ہیں جو ہوا کی طاقت کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی ماحول دوست طریقہ ہے بجلی پیدا کرنے کا۔ اسی طرح آبی توانائی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ہمارے دریاؤں اور ڈیموں سے بجلی پیدا کی جاتی ہے جو کہ صاف اور سستی توانائی فراہم کرتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ان قدرتی ذرائع کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی بجلی کی ضروریات کو پورا کر سکیں اور جیواشم ایندھن پر اپنا انحصار کم کر سکیں۔ یہ نہ صرف ہمارے لیے بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک بہتر اور صاف ستھری دنیا کا باعث بنے گا۔
ماحول دوست زندگی: ہماری ذمہ داری، ہمارا فائدہ
میری دادی اماں ہمیشہ کہتی تھیں کہ “بیٹا، زمین تمہاری ماں ہے، اس کی حفاظت کرو۔” ان کی یہ بات آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ مجھے پتا ہے کہ ہم سب کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایسے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جو ماحول کے لیے بہتر ہوں۔ یہ صرف بڑے بڑے سیمینارز یا حکومتی پالیسیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہماری ذاتی ذمہ داری ہے۔ ماحول دوست زندگی (Eco-Friendly Living) کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اپنی زندگی میں بہت بڑی تبدیلیاں لانی پڑیں گی، بلکہ چھوٹی چھوٹی عادتیں بھی بہت بڑا فرق ڈال سکتی ہیں۔ مثلاً، میں نے حال ہی میں اپنے گھر میں پانی کا استعمال بہت کم کر دیا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں شاور لیتا تھا تو پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کتنا پانی ضائع ہو گیا، لیکن اب میں بہت کم وقت میں شاور لے کر پانی بچانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ نہ صرف پانی کی بچت کرتا ہے بلکہ میرے بل پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب ہم ماحول کے لیے کچھ اچھا کرتے ہیں تو ہمیں ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہوتا ہے۔
پانی کی بچت: ایک قیمتی وسائل کی حفاظت
پانی زندگی ہے، اور ہمارے ملک میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہمارے گاؤں میں کنویں کا پانی خشک ہو گیا تھا تو لوگوں کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دن سے میں نے پانی کی اہمیت کو سمجھا اور اسے بچانے کا عہد کیا۔ اپنے گھر میں میں نے ہر جگہ پانی کی بچت کے طریقے اپنائے ہیں۔ مثلاً، میں برش کرتے وقت یا برتن دھوتے وقت نل بند رکھتا ہوں۔ میں نے اپنے باغیچے میں پودوں کو پانی دینے کے لیے ڈرپ اریگیشن سسٹم لگوایا ہے جو کم پانی استعمال کرتا ہے۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کا نظام بھی ایک بہترین حل ہے جسے ہم اپنے گھروں میں اپنا سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی آسان اور کارآمد طریقہ ہے پانی کو بچانے کا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب پانی کی قدر کریں اور اسے ذمہ داری سے استعمال کریں تو ہم اس قیمتی وسائل کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
مقامی اور موسمی مصنوعات کا استعمال
آپ کو پتا ہے کہ ہم جو کھانا کھاتے ہیں یا جو چیزیں استعمال کرتے ہیں، وہ کہاں سے آتی ہیں؟ زیادہ تر مصنوعات دور دراز کے علاقوں سے ہم تک پہنچتی ہیں، اور اس دوران ان کی نقل و حمل میں بہت زیادہ کاربن خارج ہوتی ہے۔ مجھے پتا ہے کہ آپ کو بھی میری طرح تازہ پھل اور سبزیاں پسند ہوں گی۔ میں نے حال ہی میں یہ عادت اپنائی ہے کہ میں ہمیشہ مقامی اور موسمی مصنوعات ہی خریدتا ہوں۔ اس سے نہ صرف مجھے تازہ اور صحت بخش خوراک ملتی ہے بلکہ میں مقامی کسانوں کی بھی مدد کرتا ہوں اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالتا ہوں۔ یہ ایک بہت ہی آسان اور لذت بخش طریقہ ہے ماحول دوست زندگی گزارنے کا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مقامی طور پر دستیاب چیزوں کو ترجیح دیں تو اس سے ہماری معیشت بھی مضبوط ہو گی اور ہمارا ماحول بھی بہتر ہو گا۔
بچوں کے لیے بہتر کل: ہماری آج کی کاوشیں
جب میں اپنے بھانجے بھانجوں کو کھیلتے دیکھتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ انہیں ایک صاف ستھرا اور صحت مند ماحول ملے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہم کھلے میدانوں میں کھیلا کرتے تھے اور تازہ ہوا میں سانس لیتے تھے۔ اب حالات بدل چکے ہیں، اور آلودگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ بچوں کو باہر بھیجتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں فضلہ کے انتظام اور کاربن غیر جانبداری کی بات اتنے جذبے سے کرتا ہوں۔ یہ صرف آج کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ مجھے پتا ہے کہ ایک شخص اکیلا سب کچھ نہیں بدل سکتا، لیکن اگر ہم سب مل کر چھوٹے چھوٹے اقدامات کریں تو ہم ایک بہت بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ میں اپنے بھانجے بھانجوں کو بھی سکھاتا ہوں کہ کیسے کچرے کو الگ الگ کرنا ہے اور کیسے درخت لگانے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں جب میں چمک دیکھتا ہوں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ ہم ایک بہتر کل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
ماحولیاتی تعلیم اور بچوں کی شرکت
ماحولیاتی تعلیم آج کل کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ مجھے پتا ہے کہ ہمارے سکولوں میں اس پر اتنا زور نہیں دیا جاتا جتنا دینا چاہیے۔ میں نے اپنے بھانجے بھانجوں کو ماحولیاتی مسائل کے بارے میں چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنا کر اور عملی طور پر دکھا کر سکھایا ہے۔ انہیں میں اپنے ساتھ باغیچے میں لے جاتا ہوں اور پودے لگانے میں ان کی مدد لیتا ہوں۔ وہ اس کام میں بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔ جب میں انہیں سکھاتا ہوں کہ پلاسٹک کی بوتل کو ری سائیکل کیوں کرنا چاہیے تو وہ اسے بہت دلچسپی سے سنتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اپنے بچوں کو بچپن سے ہی ماحولیاتی ذمہ داریوں کے بارے میں سکھائیں گے تو وہ بڑے ہو کر زیادہ ذمہ دار شہری بنیں گے اور اس زمین کی حفاظت کریں گے۔ یہ صرف سکولوں کا کام نہیں بلکہ ہر گھر کی ذمہ داری ہے۔
پائیدار طرز زندگی کی جانب: نسل در نسل کا سفر
پائیدار طرز زندگی (Sustainable Lifestyle) کا مطلب ہے کہ ہم اپنی ضروریات کو اس طرح پورا کریں کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بھی وسائل باقی رہیں۔ مجھے یاد ہے میرے دادا جان نے مجھے سکھایا تھا کہ کبھی بھی کوئی چیز ضائع نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہر چیز کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ میں نے یہ بات اپنی زندگی میں اپنائی ہے اور اب اپنے بچوں اور بھانجے بھانجوں کو بھی یہی سکھاتا ہوں۔ یہ ایک نسل در نسل چلنے والا سفر ہے جہاں ہم ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں اور اپنی عادات میں بہتری لاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب اس پائیدار طرز زندگی کو اپنائیں گے تو ہم اپنی زمین کو ایک بہتر جگہ بنا سکتے ہیں۔ یہ صرف ماحول کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہماری صحت، ہماری معیشت اور ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے۔
اختتامی کلمات
دوستو! مجھے امید ہے کہ آج کی یہ بات چیت آپ کو ماحول دوست زندگی گزارنے کی ترغیب دے گی، اور آپ بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے لیے پرجوش ہوں گے۔ مجھے اپنی دادی اماں کی باتیں بہت یاد آتی ہیں، وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ ہماری زمین ہمارے بچوں کی امانت ہے اور ہمیں اسے ویسا ہی لوٹانا چاہیے جیسا کہ ہمیں ملا تھا، بلکہ اس سے بھی بہتر بنا کر۔ میں نے جو کچھ بھی اپنے گھر سے شروع کیا ہے، وہ صرف ایک چھوٹی سی شروعات ہے۔ یہ فضلہ کے انتظام سے لے کر کاربن کے اخراج میں کمی اور سبز توانائی کے استعمال تک، ہر قدم ہمارے پیارے سیارے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ ہم سب کو مل کر یہ سفر طے کرنا ہے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اور ایک دوسرے کو ہمت دے کر۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری چھوٹی چھوٹی کاوشیں ایک دن بہت بڑا فرق پیدا کریں گی اور ہم اپنے بچوں کو ایک صاف ستھرا اور صحت مند مستقبل دے سکیں گے۔ یاد رکھیں، تبدیلی ہمیشہ گھر سے شروع ہوتی ہے اور پھر پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے۔
جاننے کے لیے مفید معلومات
ہر فرد کو اس ماحول کا حصہ ہونے کے ناطے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ اپنے حصے کا کردار کیسے ادا کر سکتا ہے۔ ذیل میں چند ایسے نکات دیے گئے ہیں جو آپ کی روزمرہ کی زندگی میں بہت کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں:
1. اپنے گھر کے کچرے کو خشک اور گیلے کچرے میں الگ الگ کریں۔ نامیاتی فضلہ کو کھاد بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو آپ کے گھر کے پودوں کے لیے بہترین خوراک ہے۔ مجھے اپنے پودوں میں اس کھاد کے استعمال سے جو خوشی ملتی ہے، وہ ناقابل بیان ہے۔ اس چھوٹی سی عادت سے آپ اپنے کچرے کا بڑا حصہ کم کر سکتے ہیں اور اپنے باغیچے کو بھی خوبصورت بنا سکتے ہیں۔
2. پلاسٹک کی تھیلیوں اور بوتلوں کا استعمال کم سے کم کریں۔ جب بھی آپ خریداری کے لیے جائیں، اپنا کپڑے کا تھیلا ساتھ لے جائیں اور پانی کے لیے دوبارہ بھرنے والی بوتل استعمال کریں۔ یہ عادت آپ کو نہ صرف اچھا محسوس کروائے گی بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثر ڈالے گی اور پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرے گی۔
3. بجلی اور گیس کا استعمال دانشمندی سے کریں۔ استعمال میں نہ ہونے پر لائٹس اور پنکھے بند کر دیں اور اپنے گھر کے تمام پرانے بلب کو توانائی بچانے والے ایل ای ڈی (LED) بلب سے بدل دیں۔ سردیوں میں گرم کپڑوں کو ترجیح دیں اور غیر ضروری ہیٹر استعمال کرنے سے گریز کریں۔ میں نے خود ایسا کر کے اپنے بلوں میں نمایاں کمی دیکھی ہے۔
4. پانی کا استعمال احتیاط سے کریں۔ برش کرتے وقت، برتن دھوتے وقت یا نہاتے وقت نل بند رکھیں اور ضرورت کے مطابق ہی پانی استعمال کریں۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کا نظام بھی ایک بہترین حل ہے جسے آپ اپنے گھر میں اپنا سکتے ہیں۔ یہ ہمارے قیمتی آبی وسائل کو بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے۔
5. مقامی اور موسمی مصنوعات خریدنے کو ترجیح دیں۔ اس سے نہ صرف آپ کو تازہ اور صحت بخش خوراک ملے گی بلکہ آپ مقامی کسانوں کی مدد بھی کریں گے اور نقل و حمل کے ذریعے ہونے والے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہ ایک بہت ہی آسان اور لذت بخش طریقہ ہے ماحول دوست زندگی گزارنے کا۔
اہم نکات کا خلاصہ
ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک ماحول دوست اور پائیدار طرز زندگی اپنانا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکا ہے۔ مجھے نے ذاتی طور پر یہ محسوس کیا ہے کہ جب ہم چھوٹے چھوٹے اقدامات کرتے ہیں، جیسے کچرے کو الگ کرنا، توانائی بچانا، اور ری سائیکلنگ کو اپنی عادت بنانا، تو یہ نہ صرف ہمارے ماحول پر بلکہ ہماری اپنی زندگیوں پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور صاف ستھری دنیا چھوڑیں، اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم آج اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ ہر فرد کی چھوٹی سی کوشش ایک اجتماعی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر اس زمین کو خوبصورت اور صحت مند بنائیں۔ یہ صرف میرا نہیں، ہم سب کا خواب ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: فضلے کو کم کرنے اور بہتر طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے ہم بحیثیت فرد کیا کر سکتے ہیں؟
ج: اوہ، یہ تو بہت ہی اہم سوال ہے اور میرے خیال میں ہم سب کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ میں نے خود اپنی زندگی میں کچھ چھوٹے چھوٹے اقدامات سے آغاز کیا ہے اور یقین کریں، اس کا اثر حیران کن ہے۔ سب سے پہلے تو “Reduce” یعنی فضلے کی مقدار کم کرنے کی عادت ڈالیں۔ جب بھی بازار جائیں تو اپنا کپڑے کا تھیلا ساتھ لے کر جائیں تاکہ پلاسٹک کے شاپر لینے سے بچ سکیں، اور ہاں، ایسی چیزیں خریدیں جن کی پیکجنگ کم ہو۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ہاں ڈسپوز ایبل چیزوں کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے، جیسے پلاسٹک کی بوتلیں اور گلاس، ان کی بجائے اپنی پانی کی بوتل اور اپنا کپ ساتھ رکھیں۔ گھر میں بھی کچرے کو الگ الگ کرنا بہت ضروری ہے، جیسے گیلے کچرے (سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے) کو الگ ڈبے میں، اور خشک کچرے (پلاسٹک، کاغذ، گتہ) کو الگ میں۔ میرے پڑوس میں ایک آنٹی ہیں، وہ گیلے کچرے سے گھر میں کھاد بناتی ہیں، میں نے خود دیکھا ہے کہ وہ کتنی زبردست کھاد ہوتی ہے اور پودوں کے لیے بہترین ہے۔ اس طرح آپ ری سائیکلنگ میں بھی مدد کرتے ہیں اور ماحول کو بھی صاف رکھتے ہیں۔ جب آپ ایسا کرنا شروع کریں گے تو آپ کو خود محسوس ہو گا کہ آپ کے گھر سے نکلنے والا کچرا کتنا کم ہو گیا ہے!
س: کاربن غیر جانبداری (Carbon Neutrality) آخر ہے کیا اور پاکستان میں اس حوالے سے کیا کوششیں ہو رہی ہیں؟
ج: کاربن غیر جانبداری کا مطلب سیدھا سادھا یہ ہے کہ آپ ماحول میں جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کریں، اتنی ہی کسی نہ کسی طریقے سے واپس جذب کر لیں یا اس کے اخراج کو کم کر دیں تاکہ ماحول میں کاربن کا خالص اثر صفر ہو جائے۔ جیسے ہم سانس لیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، اسی طرح ہماری فیکٹریاں، گاڑیاں، اور بجلی کے استعمال سے بھی کاربن خارج ہوتی ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس کی وجہ سے سیلاب، خشک سالی اور گرمی کی لہریں جیسی قدرتی آفات بڑھ رہی ہیں۔ میں نے خود کئی بار سوچا ہے کہ یہ گرمیاں پہلے سے کتنی مختلف ہو گئی ہیں۔ حکومت پاکستان بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور کئی اقدامات کر رہی ہے۔ نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی (NCCP) بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت قابل تجدید توانائی (جیسے شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی) کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے تاکہ فوسل فیول پر انحصار کم ہو۔ درخت لگانے کی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں، کیونکہ درخت کاربن کو جذب کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان کوششوں سے ہم سب مل کر ایک صاف ستھرا اور صحت مند پاکستان بنا سکیں گے۔
س: اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہم اپنا کاربن فوٹ پرنٹ کیسے کم کر سکتے ہیں؟
ج: جی بالکل! اپنا کاربن فوٹ پرنٹ کم کرنا کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے، بس تھوڑی سی توجہ اور کچھ عادات کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ میں نے خود اپنی زندگی میں یہ تبدیلیاں لائی ہیں اور مجھے اس کا مثبت اثر نظر آتا ہے۔ سب سے پہلے تو بجلی کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں۔ گھر سے نکلتے وقت لائٹس اور پنکھے بند کر دیں، ضرورت نہ ہو تو اے سی یا ہیٹر نہ چلائیں۔ پرانے بلب کی جگہ ایل ای ڈی بلب لگائیں، یہ بجلی بہت کم استعمال کرتے ہیں۔ سفر کے لیے اگر ممکن ہو تو گاڑی کے بجائے پیدل چلیں یا سائیکل استعمال کریں، خاص طور پر چھوٹے فاصلوں کے لیے۔ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا تو سائیکل پر اسکول جاتا تھا، وہ بہترین ورزش بھی تھی اور ماحول دوست بھی۔ اگر گاڑی استعمال کرنی پڑے تو کار پولنگ کا سوچیں، یعنی کچھ دوست یا ساتھی مل کر ایک ہی گاڑی میں سفر کریں۔ فضول چیزیں خریدنے سے پرہیز کریں، اور کوشش کریں کہ جو چیز خریدیں وہ دیرپا ہو تاکہ بار بار نئی چیز نہ خریدنی پڑے۔ اس کے علاوہ، اپنی خوراک پر بھی تھوڑا سا غور کریں، مقامی اور موسمی سبزیاں اور پھل استعمال کریں، کیونکہ درآمد شدہ چیزوں کو ہم تک پہنچنے میں بہت ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہمارے سیارے کے لیے ایک بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔






